فتوحات غوری
شہاب الدین غوری نے بر صغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی مستقل حکومت قائم کی ۔ وہ بارہویں صدی عیسوی کے اواخر سے تیرہویں صدی عیسوی کے اوائل تک سلطنت غوریہ کے حکمران تھے۔ سیف الدین ثانی کے انتقال کے بعد غیاث الدین غوری سلطنت غوریہ کے تخت پر بیٹھے اور غزنی کو مستقل طور پر فتح کرکے شہاب الدین محمد غوری، جن کا اصل نام معز الدین محمد غوری تھا، غزنی میں تخت پر بٹھایا۔ غیاث الدین نے اس دوران ہرات اور بلخ بھی فتح کرلیے اور ہرات کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ سلطان شہاب الدین غوری اگرچہ اپنے بھائی کے نائب تھے لیکن انہوں نے غزنی میں ایک آزاد حکمران کی حیثیت سے حکومت کی اور پاکستان اور شمالی ہندوستان کو فتح کرکے تاریخ میں مستقل مقام پیدا کر لیا۔ اپنے بھائی کے انتقال کے بعد وہ پوری غوری سلطنت کے حکمران بن گئے۔ شہاب الدین محمد غوری کی فوجی کارروائیاں موجودہ پاکستان کے علاقے سے شروع ہوئیں اور وہ مشہور عالم درہ خیبر کی بجائے درہ گومل سے داخل ہوئے۔ انہوں نے سب سے پہلے ملتان اور اوچ پر حملے کیے اور دونوں فتح کرلیے۔ اس کے بعد پشاور اور دیبل کو فتح کرکے غوری سلطنت کی حدود کو بحیرۂ عرب کے ساحل تک بڑھا دیں۔ لاہور اور اس کے نواح کا علاقہ ابھی تک غزنوی خاندان کے پاس تھا۔ شہاب الدین محمد غوری نے لاہور پر قبضہ کرکے غزنوی خاندان کی حکومت کوبالکل ختم کردیا۔ اس کے بعد شہاب الدین نے بھٹنڈہ کو فتح کیا جو پہلے غزنوی سلطنت میں شامل تھا لیکن اس وقت دہلی اور اجمیر کے ہندو راجہ پرتھوی راج چوہان کے قبضے میں تھا۔ جب شہاب الدین کی فوج تھوڑی تھی، ان کو شکست ہوئی اور وہ بری طرح زخمی ہو گئے۔ اسی حالت میں ایک سپاہی ان کو بچا کر لے گیا۔ ان کے سپاہی اور جرنیل محمدغوری کوغائب دیکھ کر بددل ہو گئے اور میدان جنگ سے بھاگ نکلے۔ محمد غوری کو زخمی حالت میں لاہور لایاگیا جہاں سے وہ غزنی پہنچے۔ بالآخر انہوں نے تمام جر نیلوں کو تربیت یافتہ فوج تیار کرنے کاحکم دیا۔ کچھ عرصہ بعد ایک بڑی فوج کو لے کر پچھلی شکست کا بدلہ لینے کے لیے دہلی کی طرف روانہ ہوئے۔ ادھر سے پرتھوی راج بھی بہت بڑی فوج اور کئی ہزار جنگی ہاتھی لے کر روانہ ہوا۔ دونوں افواج ایک بار پھر ترائن یا تراوڑی کے میدان میں آمنے سامنے ہوئیں۔ راجا پرتھوی راج چوہان نے محمد غوری کو خط لکھا اور نصیحت کی کہ اپنے سپاہیوں کے حال پر رحم کھاؤ اور انہیں لے کر غزنی واپس چلے جاؤ ہم تمہارا پیچھا نہیں کریں گے۔ لیکن شہاب الدین غوری نے نہایت متانت سے جواب دیا کہ وہ اپنے بھائی کے حکم کے مطابق عمل کرتا ہے اس لیے بغیر جنگ کے واپسی ناممکن ہے۔ اگلے دن دونوں افواج کا آمنا سامنا ہوا۔ شہاب الدین غوری کو فتح ہوئی اور پرتھوی راج کو شکست ہوئی۔ اس نے میدان جنگ سے بھاگ کر جان بچائی مگر دریائے سرسوتی کے پاس سے گرفتار ہوا۔سلطان محمد غوری کے حکم پر اسے قتل کر دیا گیا۔ اس جنگ کے دور رس نتائج برآمد ہوئے مسلمانوں کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہ رہا۔ شہاب الدین نے دہلی اور اجمیر بھی فتح کر لیا اور اس کے سپہ سالار ملک محمد ابن بختیار خلجی نے آگے بڑھ کر بہار اور بنگال کو زیر نگیں کیا۔ اس طرح پورا شمالی ہندوستان مسلمانوں کے قبضے میں آگیا۔
بقلم رضوان افضل
شہاب الدین غوری نے بر صغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی مستقل حکومت قائم کی ۔ وہ بارہویں صدی عیسوی کے اواخر سے تیرہویں صدی عیسوی کے اوائل تک سلطنت غوریہ کے حکمران تھے۔ سیف الدین ثانی کے انتقال کے بعد غیاث الدین غوری سلطنت غوریہ کے تخت پر بیٹھے اور غزنی کو مستقل طور پر فتح کرکے شہاب الدین محمد غوری، جن کا اصل نام معز الدین محمد غوری تھا، غزنی میں تخت پر بٹھایا۔ غیاث الدین نے اس دوران ہرات اور بلخ بھی فتح کرلیے اور ہرات کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ سلطان شہاب الدین غوری اگرچہ اپنے بھائی کے نائب تھے لیکن انہوں نے غزنی میں ایک آزاد حکمران کی حیثیت سے حکومت کی اور پاکستان اور شمالی ہندوستان کو فتح کرکے تاریخ میں مستقل مقام پیدا کر لیا۔ اپنے بھائی کے انتقال کے بعد وہ پوری غوری سلطنت کے حکمران بن گئے۔ شہاب الدین محمد غوری کی فوجی کارروائیاں موجودہ پاکستان کے علاقے سے شروع ہوئیں اور وہ مشہور عالم درہ خیبر کی بجائے درہ گومل سے داخل ہوئے۔ انہوں نے سب سے پہلے ملتان اور اوچ پر حملے کیے اور دونوں فتح کرلیے۔ اس کے بعد پشاور اور دیبل کو فتح کرکے غوری سلطنت کی حدود کو بحیرۂ عرب کے ساحل تک بڑھا دیں۔ لاہور اور اس کے نواح کا علاقہ ابھی تک غزنوی خاندان کے پاس تھا۔ شہاب الدین محمد غوری نے لاہور پر قبضہ کرکے غزنوی خاندان کی حکومت کوبالکل ختم کردیا۔ اس کے بعد شہاب الدین نے بھٹنڈہ کو فتح کیا جو پہلے غزنوی سلطنت میں شامل تھا لیکن اس وقت دہلی اور اجمیر کے ہندو راجہ پرتھوی راج چوہان کے قبضے میں تھا۔ جب شہاب الدین کی فوج تھوڑی تھی، ان کو شکست ہوئی اور وہ بری طرح زخمی ہو گئے۔ اسی حالت میں ایک سپاہی ان کو بچا کر لے گیا۔ ان کے سپاہی اور جرنیل محمدغوری کوغائب دیکھ کر بددل ہو گئے اور میدان جنگ سے بھاگ نکلے۔ محمد غوری کو زخمی حالت میں لاہور لایاگیا جہاں سے وہ غزنی پہنچے۔ بالآخر انہوں نے تمام جر نیلوں کو تربیت یافتہ فوج تیار کرنے کاحکم دیا۔ کچھ عرصہ بعد ایک بڑی فوج کو لے کر پچھلی شکست کا بدلہ لینے کے لیے دہلی کی طرف روانہ ہوئے۔ ادھر سے پرتھوی راج بھی بہت بڑی فوج اور کئی ہزار جنگی ہاتھی لے کر روانہ ہوا۔ دونوں افواج ایک بار پھر ترائن یا تراوڑی کے میدان میں آمنے سامنے ہوئیں۔ راجا پرتھوی راج چوہان نے محمد غوری کو خط لکھا اور نصیحت کی کہ اپنے سپاہیوں کے حال پر رحم کھاؤ اور انہیں لے کر غزنی واپس چلے جاؤ ہم تمہارا پیچھا نہیں کریں گے۔ لیکن شہاب الدین غوری نے نہایت متانت سے جواب دیا کہ وہ اپنے بھائی کے حکم کے مطابق عمل کرتا ہے اس لیے بغیر جنگ کے واپسی ناممکن ہے۔ اگلے دن دونوں افواج کا آمنا سامنا ہوا۔ شہاب الدین غوری کو فتح ہوئی اور پرتھوی راج کو شکست ہوئی۔ اس نے میدان جنگ سے بھاگ کر جان بچائی مگر دریائے سرسوتی کے پاس سے گرفتار ہوا۔سلطان محمد غوری کے حکم پر اسے قتل کر دیا گیا۔ اس جنگ کے دور رس نتائج برآمد ہوئے مسلمانوں کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہ رہا۔ شہاب الدین نے دہلی اور اجمیر بھی فتح کر لیا اور اس کے سپہ سالار ملک محمد ابن بختیار خلجی نے آگے بڑھ کر بہار اور بنگال کو زیر نگیں کیا۔ اس طرح پورا شمالی ہندوستان مسلمانوں کے قبضے میں آگیا۔
بقلم رضوان افضل

Comments
Post a Comment