گاؤں کی زندگی
دورِ حاضر میں اگر آپ قدرتی مناظر دیکھنے کے شائق ہیں تو آپ گاؤں کا رخ کریں وہاں کے پرکشش اور حسین نظارے آپکی بصارتوں کے منتظر ہونگے۔ صبح جاگتے ہی سورج کے طلوع ہونے کا خوبصورت منظر اپنی آنکھوں میں قید کرنے کا موقع ملے گا۔
گاؤں کی دلفریب صبح #کوک_اسٹوڈیو کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہے جہاں موسیقی کے مختلف قسم کے آلات بیک وقت بج رہے ہوتے ہیں یہاں کی صبح کا آغاز بھی طرح طرح کی آوازوں سے ہی ہوتا ہے۔ کہیں مصالحہ کوٹنے کی آوازیں، کہیں چڑیوں کی چہچہاہٹ، کہیں کبوتروں کی غٹرغوں اور کہیں گدھوں کی ڈھینچو ڈھینچو۔
گاؤں کے سر سبز و شاداب کھیت گاؤں کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ ہرے بھرے لہلہاتے کھیت آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتے ہیں درختوں کی چھاؤں میں مختلف محفلیں لگی ہوتی ہیں کہیں پنچایت لگی ہوتی ہے تو کہیں کچھ سہیلیاں بیٹھ کر کوکلا چھپاکی کھیل رہی ہوتی ہیں اور لڑکے کنچے کھیلتے نظر آتے ہیں۔
گاؤں کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہاں کی ہر چیز تروتازہ ہوتی ہے دودھ ، دہی ، مکھن حتی کہ گوبر بھی۔۔۔ جی ہاں گوبر! کسی بھی گاؤں کا ذکر گوبر کے ذکر بنا ایسے ہے جیسے مجنوں کے بغیر لیلٰی، رانجھے کے بنا ہیر، پنوں کے بغیر سسی، فرہاد کے بنا شیریں، رومیو کے بغیر جولیٹ یعنی گوبر کے ذکر کے بغیر گاؤں کا ذکر ادھورا ہے۔ جب ہم چھوٹے تھے تو دادا ابو سے ملنے گاؤں جایا کرتے تھے اور وہاں کی عورتوں کو دیکھتے تھے وہ نہایت عمدگی اور سلیقے سے تھپ تھپ کر کے گوبر کے آپلے بنا رہی ہوتی تھیں۔ آپلے بناتے وقت گوبر کے چھینٹے ان کے چہروں پر بھی پڑتے تھے جو ان کے حسن کو چار چاند لگا دیتے۔ ہم پاس کھڑے ہو کے انھیں دیکھتے اور پھر ان کی دیکھا دیکھی گیلی مٹی لے کے ان کی طرح تھپ تھپ شروع کر دیتے تھے اور پھر ہمارے ہاتھوں سے آنے والی مہک ہمیں یہ باور کروا دیتی کہ ہم نے مٹی کے ساتھ ساتھ غلطی سے گوبر بھی اٹھا رکھا تھا۔
ایک روز ہم اپنے گاؤں کے تالاب پر گئے۔ تالاب کے کنارے پر مچھلیوں کے چھوٹے بچے جو شاید ابھی حال ہی میں انڈوں سے نکلے تھے تیرتے ہوۓ دکھائی دیے۔ ہم نے ایک تھیلی میں انھیں پکڑ لیا اور گھر کی طرف دوڑ لگا دی۔ سارے راستے ہم خوشی سے چلاتے رہے کہ ہم نے مچھلیاں پکڑی ہیں اور بالآخر گھر پہنچ گئے۔ گھر والوں نے استفسار کیا کہ کہاں ہیں مچھلیاں؟ تو ہم نے وہ تھیلی ان کے سامنے کر دی جیسے ہی گھر والوں تھیلی میں بند مچھلیوں کو دیکھا تو سب کے منہ سے ہنسی کے فوارے چھوٹ گئے۔ ہمیں حیران و پریشان ہوتا دیکھ کر دادا ابو نے ہمیں بتایا کہ "پتر اے مچھلیاں نئیں ڈڈو نے"
گاؤں کے لوگ بہت سادہ مزاج ہوتے ہیں مگر اتنا اونچا بولتے ہیں کہ باہر سے کوئی آئے تو سمجھے کہ شاید یہاں کوئی جھگڑا ہو رہا ہے۔
آخر میں بس ایک بات کہنا چاہیں گے گاؤں میں شہر کی نسبت بے شک زیادہ سہولیاتِ زندگی میسر نہیں مگر گاؤں کی ایک تازہ ہوا کا تقابل ان تمام سہولیات کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔
دورِ حاضر میں اگر آپ قدرتی مناظر دیکھنے کے شائق ہیں تو آپ گاؤں کا رخ کریں وہاں کے پرکشش اور حسین نظارے آپکی بصارتوں کے منتظر ہونگے۔ صبح جاگتے ہی سورج کے طلوع ہونے کا خوبصورت منظر اپنی آنکھوں میں قید کرنے کا موقع ملے گا۔
گاؤں کی دلفریب صبح #کوک_اسٹوڈیو کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہے جہاں موسیقی کے مختلف قسم کے آلات بیک وقت بج رہے ہوتے ہیں یہاں کی صبح کا آغاز بھی طرح طرح کی آوازوں سے ہی ہوتا ہے۔ کہیں مصالحہ کوٹنے کی آوازیں، کہیں چڑیوں کی چہچہاہٹ، کہیں کبوتروں کی غٹرغوں اور کہیں گدھوں کی ڈھینچو ڈھینچو۔
گاؤں کے سر سبز و شاداب کھیت گاؤں کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ ہرے بھرے لہلہاتے کھیت آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتے ہیں درختوں کی چھاؤں میں مختلف محفلیں لگی ہوتی ہیں کہیں پنچایت لگی ہوتی ہے تو کہیں کچھ سہیلیاں بیٹھ کر کوکلا چھپاکی کھیل رہی ہوتی ہیں اور لڑکے کنچے کھیلتے نظر آتے ہیں۔
گاؤں کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہاں کی ہر چیز تروتازہ ہوتی ہے دودھ ، دہی ، مکھن حتی کہ گوبر بھی۔۔۔ جی ہاں گوبر! کسی بھی گاؤں کا ذکر گوبر کے ذکر بنا ایسے ہے جیسے مجنوں کے بغیر لیلٰی، رانجھے کے بنا ہیر، پنوں کے بغیر سسی، فرہاد کے بنا شیریں، رومیو کے بغیر جولیٹ یعنی گوبر کے ذکر کے بغیر گاؤں کا ذکر ادھورا ہے۔ جب ہم چھوٹے تھے تو دادا ابو سے ملنے گاؤں جایا کرتے تھے اور وہاں کی عورتوں کو دیکھتے تھے وہ نہایت عمدگی اور سلیقے سے تھپ تھپ کر کے گوبر کے آپلے بنا رہی ہوتی تھیں۔ آپلے بناتے وقت گوبر کے چھینٹے ان کے چہروں پر بھی پڑتے تھے جو ان کے حسن کو چار چاند لگا دیتے۔ ہم پاس کھڑے ہو کے انھیں دیکھتے اور پھر ان کی دیکھا دیکھی گیلی مٹی لے کے ان کی طرح تھپ تھپ شروع کر دیتے تھے اور پھر ہمارے ہاتھوں سے آنے والی مہک ہمیں یہ باور کروا دیتی کہ ہم نے مٹی کے ساتھ ساتھ غلطی سے گوبر بھی اٹھا رکھا تھا۔
ایک روز ہم اپنے گاؤں کے تالاب پر گئے۔ تالاب کے کنارے پر مچھلیوں کے چھوٹے بچے جو شاید ابھی حال ہی میں انڈوں سے نکلے تھے تیرتے ہوۓ دکھائی دیے۔ ہم نے ایک تھیلی میں انھیں پکڑ لیا اور گھر کی طرف دوڑ لگا دی۔ سارے راستے ہم خوشی سے چلاتے رہے کہ ہم نے مچھلیاں پکڑی ہیں اور بالآخر گھر پہنچ گئے۔ گھر والوں نے استفسار کیا کہ کہاں ہیں مچھلیاں؟ تو ہم نے وہ تھیلی ان کے سامنے کر دی جیسے ہی گھر والوں تھیلی میں بند مچھلیوں کو دیکھا تو سب کے منہ سے ہنسی کے فوارے چھوٹ گئے۔ ہمیں حیران و پریشان ہوتا دیکھ کر دادا ابو نے ہمیں بتایا کہ "پتر اے مچھلیاں نئیں ڈڈو نے"
گاؤں کے لوگ بہت سادہ مزاج ہوتے ہیں مگر اتنا اونچا بولتے ہیں کہ باہر سے کوئی آئے تو سمجھے کہ شاید یہاں کوئی جھگڑا ہو رہا ہے۔
آخر میں بس ایک بات کہنا چاہیں گے گاؤں میں شہر کی نسبت بے شک زیادہ سہولیاتِ زندگی میسر نہیں مگر گاؤں کی ایک تازہ ہوا کا تقابل ان تمام سہولیات کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔

Comments
Post a Comment